6 اشعار

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا

Gāñv kī āñkh se bastī kī nazar se dekhā

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا

«گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھاایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا

ہم سے اے حسن ادا کب ترا حق ہو پایاآنکھ بھر تجھ کو بزرگوں کے نہ ڈر سے دیکھا

اپنی بانہوں کی طرح مجھ کو لگیں سب شاخیںچاند الجھا ہوا جس رات شجر سے دیکھا

ہم کسی جنگ میں شامل نہ ہوئے بس ہم نےہر تماشے کو فقط راہ گزر سے دیکھا

ہر چمکتے ہوئے منظر سے رہے ہم ناراضسارے چہروں کو سدا دیدۂ تر سے دیکھا

پھول سے بچوں کے شانوں پہ تھے بھاری بستےہم نے اسکول کو دشمن کی نظر سے دیکھا

— اسعد بدایونی