5 اشعار

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں

Ye zinda rahne kā mausam guzar na jaae kahīñ

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں

«یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیںاب آ بھی جاؤ دل زار مر نہ جائے کہیں

مرا ستارا تو اب تک نظر نہیں آیامیں ڈر رہا ہوں کہ یہ شب گزر نہ جائے کہیں

ندی کنارے کھڑا پیڑ سوچ میں گم ہےکوئی بھنور اسے برباد کر نہ جائے کہیں

پرندے اپنے ٹھکانوں کو خیر سے پہنچےدعا یہی ہے کہ کوئی ٹھہر نہ جائے کہیں

گلا بھی خود سے ہے اور سلسلہ بھی خود سے ہےہماری بات ادھر سے ادھر نہ جائے کہیں

— اسعد بدایونی