5 اشعار

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی

Sach bol ke bachne ki riwayat nahin koi

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی

«سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئیاور مجھ کو شہادت کی ضرورت نہیں کوئی

میں رزق کی آواز پہ لبیک کہوں گاہاں مجھ کو زمینوں سے محبت نہیں کوئی

میرے بھی کئی خواب تھے میرے بھی کئی عزمحالات سے انکار کی صورت نہیں کوئی

میں جس کے لیے سارے زمانے سے خفا تھااب یوں ہے کہ اس نام سے نسبت نہیں کوئی

لہجہ ہے مرا تلخ مرے وار ہیں بھرپورلیکن میرے سینے میں کدورت نہیں کوئی

— اسعد بدایونی