5 اشعار

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

Havā ke paas bas ik tāziyāna hotā hai

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے

«ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہےاسی سے شہر و شجر کو ڈرانا ہوتا ہے

وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوںمجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے

منافقوں میں شب و روز بھی گزارتا ہوںاور ان کی زد سے بھی خود کو بچانا ہوتا ہے

کتاب عمر بھری جا رہی ہے لیکن کیوںنہ کوئی لفظ نہ چہرہ پرانا ہوتا ہے

وہاں بھی مجھ کو خدا سر بلند رکھتا ہےجہاں سروں کو جھکائے زمانہ ہوتا ہے

— اسعد بدایونی