5 اشعار

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

Kehte hain log shahar to ye bhi Khuda ka hai

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

«کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہےمنظر یہاں تمام مگر کربلا کا ہے

آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پرتم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے

غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھےان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے

اب ہم وصال یار سے بے زار ہیں بہتدل کا جھکاؤ ہجر کی جانب بلا کا ہے

یہ کیا کہا کہ اہل جنوں اب نہیں رہےاسعدؔ جو تیرے شہر میں بندہ خدا کا ہے

— اسعد بدایونی