7 اشعار

ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیں

Malal umar gurezan ka karte rehte hain

ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیں

«ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیںیہ لوگ زندہ نہیں روز مرتے رہتے ہیں

ہوس کا زور کسی طور کم نہیں ہوتاقناعتوں کے گھروندے بکھرتے رہتے ہیں

دیے بجھانا گرانا گلوں کو شاخوں سےہوا کے ہاتھ سدا کام کرتے رہتے ہیں

یہ دل گئے ہوئے لوگوں کی یاد سے روشناس آئنے میں بہت عکس ابھرتے رہتے ہیں

کسی تسلسل زنجیر کے سوا کیا ہیںجو لوگ روز نظر سے گزرتے رہتے ہیں

گلی میں گھوم رہے ہیں فراق کے آسیبمکان بند کیے ہم بھی ڈرتے رہتے ہیں

کسی بھی خواب کی تکمیل غیر ممکن ہےجو کام ہو نہیں سکتا وہ کرتے رہتے ہیں

— اسعد بدایونی