6 اشعار

اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے

Is abr se bhi qabahat zyada hoti hai

اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے

«اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہےجسے برسنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے

وہ آبشار ہیں اس کے لبوں میں پوشیدہکہ جن سے پیاس کی شدت زیادہ ہوتی ہے

وہ میرے پاس نہ آنے کو دیتا ہے ترجیحجب اس کو میری ضرورت زیادہ ہوتی ہے

رہوں جو گھر میں تو تنہائی کاٹنے آئےچلوں جو راہ تو وحشت زیادہ ہوتی ہے

میں اک شجر ہوں مگر برگ و بار سے آزادہوا کی مجھ پہ عنایت زیادہ ہوتی ہے

یہاں ہمارے بھی دن تھے بزرگ کہتے ہیںنئے لہو میں بغاوت زیادہ ہوتی ہے

— اسعد بدایونی