6 اشعار

عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیں

Ishq mein hijr ke sadme bhi uthaaye nahin hain

عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیں

«عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیںاپنی مرضی سے تو ہم دشت میں آئے نہیں ہیں

اپنا کاسہ بھی تہی اپنا کدو بھی خالیداغ دیدار و ہوس دل پہ لگائے نہیں ہیں

ہم سے مایوس نہ ہو شمع شبستان خیالہم ابھی خاک کے سینے میں سمائے نہیں ہیں

اب کسی سمت سے خوشبو نہیں آتی ہم تککاغذی پھول بھی طاقوں میں سجائے نہیں ہیں

اک دکاں کھول کے بازار کا رخ دیکھنا ہےابھی آئین تجارت کے بنائے نہیں ہیں

حرمت حرف کی تفسیر بنانے والوہم کسی اور ستارے سے تو آئے نہیں ہیں

— اسعد بدایونی