6 اشعار

مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیں

Mere shajar tujhe mausam naya banate rahen

مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیں

«مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیںگلاب صبر تری ٹہنیوں پہ آتے رہیں

جو دوستوں کی کمانوں کو تیر دیتا ہےہمیں یہ ظرف بھی بخشے کہ زخم کھاتے رہیں

بس اک چراغ ہے اپنی متاع بیش بہاسو شام آتی رہے ہم اسے جلاتے رہیں

سحر کے رنگ دریچوں کو سیر کرتے جائیںہوا کے جھونکے کھلے آنگنوں میں آتے رہیں

کبھی کبھی کوئی سورج طلوع ہوتا رہےردائے ابر میں تارے بھی منہ چھپاتے رہیں

فصیل شہر انا رفتہ رفتہ گرتی جائےیہ زلزلے مری جاں میں ہمیشہ آتے رہیں

— اسعد بدایونی