6 اشعار

یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں

Yaqeen se nikle to jaise guman ki zad mein hain

یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں

«یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیںیہ کیا تضاد ہے ہم کس زیاں کی زد میں ہیں

بہت طویل ہیں گویا رتوں کی زنجیریںنئے شگوفے سبھی رفتگاں کی زد میں ہیں

انہیں نصیب ہو اب ماورا کوئی ساعتازل سے پیڑ بہار و خزاں کی زد میں ہیں

وہی سفر ہے سمندر بھی کشتیاں بھی وہیہوائیں اب کے مگر بادباں کی زد میں ہیں

سنو چراغ بجھا دو تمام خیمے کےمرے عزیز شب امتحاں کی زد میں ہیں

جو ہم پہ عرصۂ خوش منظری میں بیت گئیںکہانیاں ہیں مگر کب بیاں کی زد میں ہیں

— اسعد بدایونی