6 اشعار

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے

Jis ko honā hai vo in āñkhoñ se ojhal ho jaa.e

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے

«جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائےاس سے پہلے کہ مرا کام مکمل ہو جائے

میں تو بس دیکھتا رہتا ہوں زمینوں کے کٹاؤآدمی سوچنے والا ہو تو پاگل ہو جائے

کہیں ایسا نہ ہو ویرانے ہوں پھر سے آبادکہیں ایسا نہ ہو ہر شہر ہی جنگل ہو جائے

یہ زمیں جس پہ ہے گلزاروں کی تعداد بہتیہ بھی ہو سکتا ہے کل کو وہی مقتل ہو جائے

ریگ زاروں سے بخارات ہی اٹھتے ہیں مگرکون جانے کہ یہ گرمی کوئی بادل ہو جائے

میرا پندار ہی دیوار ہے ناکامی کییہ جو گر جائے تو ہر خواب مکمل ہو جائے

— اسعد بدایونی