7 اشعار

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب

Pūchho agar to karte haiñ inkār sab ke sab

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب

«پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سبسچ یہ کہ ہیں حیات سے بیزار سب کے سب

اپنی خبر کسی کو نہیں پھر بھی جانے کیوںپڑھتے ہیں روز شہر میں اخبار سب کے سب

تھا ایک میں جو شرط وفا توڑتا رہاحالانکہ با وفا تھے مرے یار سب کے سب

سوچو تو نفرتوں کا ذخیرہ ہے ایک دلکرتے ہیں یوں تو پیار کا اظہار سب کے سب

زنداں کوئی قریب نہیں اور نہ رقص گاہسنتے ہیں اک عجیب سی جھنکار سب کے سب

میدان جنگ آنے سے پہلے پلٹ گئےنکلے تھے لے کے ہاتھ میں تلوار سب کے سب

ذہنوں میں کھولتا تھا جو لاوا وہ جم گیامفلوج ہو کے رہ گئے فن کار سب کے سب

— اسعد بدایونی