5 اشعار

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی

Wo ek naam jo darya bhi hai kinara bhi

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی

«وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھیرہا ہے اس سے بہت رابطہ ہمارا بھی

چمن وہی کہ جہاں پر لبوں کے پھول کھلیںبدن وہی کہ جہاں رات ہو گوارا بھی

ہمیں بھی لمحۂ رخصت سے ہول آتا ہےجدا ہوا ہے کوئی مہرباں ہمارا بھی

علامت شجر سایہ دار بھی وہ جسمخرابی دل و دیدہ کا استعارہ بھی

افق تھکن کی ردا میں لپٹتا جاتا ہےسو ہم بھی چپ ہیں اور اس شام کا ستارا بھی

— اسعد بدایونی