7 اشعار

خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں

Khak to hum bhi har ek dasht ki chhaane hue hain

خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں

«خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیںکچھ نیا کرنے کی کوشش میں پرانے ہوئے ہیں

سبز موسم کا پتہ جن سے ملا کرتا تھاتیرہ بختوں کے وہی شہر ٹھکانے ہوئے ہیں

خانۂ دل میں ابھی تک ہیں وہی لوگ آبادجن کو اوجھل ہوئے آنکھوں سے زمانے ہوئے ہیں

تیر شاخوں میں ہیں پیوست پرندوں میں نہیںکس شکاری کے خطا اتنے نشانے ہوئے ہیں

آب و گل ہی کا کرشمہ لب و رخسار بھی ہیںایسی کیا بات ہے کیوں آپ دوانے ہوئے ہیں

روز مت مانگیے مٹی کی محبت کا ثبوتہم تو یہ جسم اسی خاک کا چھانے ہوئے ہیں

شعر بھی لکھتا ہوں اور گھر بھی چلاتا ہوں جنابکب کسی بوجھ کے شاکی مرے شانے ہوئے ہیں

— اسعد بدایونی