6 اشعار

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی

Kuchh log ji rahe hain Khuda ke baghair bhi

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی

«کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھیسناٹے گونجتے ہیں صدا کے بغیر بھی

مٹی کی مملکت میں نمو کی زکوٰۃ پرزندہ ہیں پیڑ آب و ہوا کے بغیر بھی

یہ نفرتوں کے زرد الاؤ نہ ہوں گے سردپھیلے گی آگ تیز ہوا کے بغیر بھی

ربط و تعلقات کا موسم نہیں کوئیبارش ہوئی ہے کالی گھٹا کے بغیر بھی

دنیا کے کار زار میں بچوں کو ماؤں نےرخصت کیا ہے حرف دعا کے بغیر بھی

خوف خدا میں عمر گزاری تو کیا ملاکچھ دن جئیں گے خوف خدا کے بغیر بھی

— اسعد بدایونی