5 اشعار

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے

Wo aadmi jo teri aarzoo mein marta hai

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے

«وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہےوہ تجھ سے پیار نہیں خود سے عشق کرتا ہے

فضا میں خوف کے پرچم بلند ہوتے ہیںسواد شام سے لشکر کوئی گزرتا ہے

مری زمیں کے بلاوے غضب کے ہیں لیکنکوئی جنوں مرے پر رات دن کترتا ہے

میں اپنے آپ کو اب کس کے چاک پر رکھوںشکستہ ظرف دوبارہ کہیں سنورتا ہے

لگے ہوئے ہیں جہاں پر وصال کے خیمےادھر سے ہجر کا رہوار بھی گزرتا ہے

— اسعد بدایونی