6 اشعار

موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگا

Mausam-e-hijr to daaim hai na rukhsat hoga

موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگا

«موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگاایک ہی لمحے کو ہو وصل غنیمت ہوگا

میرا دل آخری تارے کی طرح ہے گویاڈوبنا اس کا نئے دن کی بشارت ہوگا

اب کے ہنگامہ نئی طرح ہوا ہے آغازشہر بھی اب کے نئے طور سے غارت ہوگا

شاخ سے ٹوٹ کے پتے نے یہ دل میں سوچاکون اس طرح بھلا مائل ہجرت ہوگا

دل سے دنیا کا جو رشتہ ہے عجب رشتہ ہےہم جو ٹوٹے ہیں تو کب شہر سلامت ہوگا

بادبانوں سے ہوا لگ کے گلے روتی ہےیہ سفینہ بھی کسی موج کی قسمت ہوگا

— اسعد بدایونی