8 اشعار

وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے

Waqt ki baazgasht se kab ye hua ke dar gaye

وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے

«وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئےدرد کی دھوپ ڈھل گئی ہجر کے دن گزر گئے

تیز قدم نکل گئے دھوپ کی سرحدوں سے دورراہ کی چھاؤں دیکھ کر سست قدم ٹھہر گئے

لوگ بھی ہیں نئے نئے شہر بھی ہیں نئے نئےباتیں وہ کھو گئیں کہاں رستے وہ سب کدھر گئے

بارش رنگ و نور سے جان چمن میں پڑ گئیپھول تمام کھل اٹھے پیڑ سبھی نکھر گئے

لے کے چلے تھے نرمیاں گھر سے گلوں کی صبح کوبرگ خزاں تھے شام جب لوٹ کے اپنے گھر گئے

ہم کو ہوائے وقت نے دی ہے شکست بارہاسیپ کی طرح بند تھے گل کی طرح بکھر گئے

شعر لکھوں تو کس طرح نظم کہوں تو کیوں بھلامیری زبان چھن گئی ہاتھ مرے کتر گئے

توڑنا تھیں روایتیں موڑنا تھیں حکایتیںلوگ وہ خود پسند تھے ہنستے ہوئے جو مر گئے

— اسعد بدایونی