5 اشعار

مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں

Mujhe bhi wahshat-e-sahra pukar main bhi hun

مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں

«مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوںترے وصال کا امیدوار میں بھی ہوں

پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیںکہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں

مجھے بھی حکم ملے جان سے گزرنے کامیں انتظار میں ہوں شہسوار میں بھی ہوں

بہت سے نیزے یہاں خود مری تلاش میں ہیںیہ دشت جس میں برائے شکار میں بھی ہوں

ہوا چلے تو لرزتی ہے میری لو کتنیمیں اک چراغ ہوں اور بے قرار میں بھی ہوں

— اسعد بدایونی