7 اشعار

وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے

Wo jinhen dasht-e-ana se paar hona tha hue

وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے

«وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئےہم کو لیکن صاحب کردار ہونا تھا ہوئے

کب تلک جیتے وصالوں کی تمناؤں میں لوگزندگی سے ایک دن بیزار ہونا تھا ہوئے

اور تھے وہ جن کو جاگیریں عطا اس سے ہوئیںاپنی قسمت میں تو بس فن کار ہونا تھا ہوئے

کچھ پرندوں کو ملی اونچی اڑانوں کی سزاکچھ کو لیکن قید میں پر دار ہونا تھا ہوئے

ہم کو بننا تھا کڑی زنجیر کی ہم بن گئےوہ جنہیں پازیب کی جھنکار ہونا تھا ہوئے

کوشش پیہم سے بھی کوئی نہ بن پائی لکیرکھینچنا تھے دائرے پرکار ہونا تھا ہوئے

وار اپنے آپ پر کرنا تھا اسعدؔ تہ بہ تہہم کو اک ٹوٹی ہوئی تلوار ہونا تھا ہوئے

— اسعد بدایونی