7 اشعار

پتھر پانی ہو جاتے ہیں

Patthar paanī ho jaate haiñ

پتھر پانی ہو جاتے ہیں

«پتھر پانی ہو جاتے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

پتھر پانی ہو جاتے ہیںلوگ کہانی ہو جاتے ہیں

نئے نئے چہرے والے بھیبات پرانی ہو جاتے ہیں

عشق کی رت میں سارے بھکاریراجا رانی ہو جاتے ہیں

شام سمے لو کے جھونکے بھیپون سہانی ہو جاتے ہیں

سکھ کا موسم جب آتا ہےجسم بھی پانی ہو جاتے ہیں

سوکھے پتے گئی رتوں کےنئی نشانی ہو جاتے ہیں

ہم تو اس کی باتیں سن کرپانی پانی ہو جاتے ہیں

— اسعد بدایونی