5 اشعار

رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھی

Rahi agarche nigaron ki meherbani bhi

رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھی

«رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھیبہت خراب کٹی رات بھی جوانی بھی

تجھے گنوا کے ترے واسطوں کا کیا کرتےاسی لیے تو نہ رکھی کوئی نشانی بھی

دل و نگاہ کے رستوں میں کون حائل ہےکہ ہم پہ بند ہوئے روشنی بھی پانی بھی

اگر لبوں سے نہ نکلے اگر دلوں میں رہےبہت نئی ہے ابھی بات اک پرانی بھی

عذاب صحبت نا جنس کے شکار ہیں ہمخدا زمیں پہ ہمیں دے ہمارا ثانی بھی

— اسعد بدایونی