7 اشعار

سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں

Saje sajaye hue sabz manzaron se na jaayen

سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں

«سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیںخدا کرے کہ یہ دریا کبھی گھروں سے نہ جائیں

بنام عشق و ہوس کچھ نہ کچھ رہے روشنکچھ ایسا ہو کہ یہ سودے کبھی سروں سے نہ جائیں

فضائے دشت طرب ناک کو دوام ملےگلاب خوشبو سے اور تتلیاں پروں سے نہ جائیں

ضرورتوں کو زیادہ نہ کر خدائے کریمنکل کے پاؤں بہت دور چادروں سے نہ جائیں

حروف و نطق کی ہر انجمن میں رونق ہوخیال روٹھ کے ہرگز سخن وروں سے نہ جائیں

اسی طرح صف سیارگاں رہے قائمنجوم و ماہ الگ اپنے محوروں سے نہ جائیں

امیر عصر سے فریاد کرنا چاہتے ہیںسروں کو پھوڑنے یہ لوگ پتھروں سے نہ جائیں

— اسعد بدایونی