5 اشعار

سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہے

Sab ke pairon mein wahi rizq ka chakkar kyun hai

سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہے

«سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہےگریہ اس عہد کے لوگوں کا مقدر کیوں ہے

یہ جو منظر ہیں بڑے کیوں ہیں مری آنکھوں سےیہ جو دنیا ہے مرے دل کے برابر کیوں ہے

آسمانوں پہ بہت دیر سے ٹھہری ہے شفقسوچتا ہوں کہ ابھی تک یہی منظر کیوں ہے

میں بظاہر تو اجالوں میں بسر کرتا ہوںایک پراسرار سیاہی مرے اندر کیوں ہے

کشتیاں ڈوب چکیں سر پھرے غرقاب ہوئےمشتعل اب بھی اسی طرح سمندر کیوں ہے

— اسعد بدایونی