7 اشعار

یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے

Yahi nahin ke mera ghar badalta jata hai

یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے

«یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہےمزاج شہر بھی بدلتا جاتا ہے

رتیں قدیم تواتر سے آتی جاتی ہیںدرخت پتوں کے زیور بدلتا جاتا ہے

افق پہ کیوں نہیں رکتی کوئی کرن پل بھریہ کون تیزی سے منظر بدلتا جاتا ہے

غبار وقت میں سب رنگ گھلتے جاتے ہیںزمانہ کتنے ہی تیور بدلتا جاتا ہے

چھڑی ہوئی ہے ازل سے دل و نگاہ میں جنگمحاذ ایک ہے لشکر بدلتا جاتا ہے

یہ کس کا ہاتھ ہے جو بے چراغ راتوں میںفصیل شہر کے پتھر بدلتا جاتا ہے

پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیںکہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

— اسعد بدایونی