5 اشعار

شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہے

Shaakh se phool se kya us ka pata poochhti hai

شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہے

«شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہےیا پھر اس دشت میں کچھ اور ہوا پوچھتی ہے

میں تو زخموں کو خدا سے بھی چھپانا چاہوںکس لیے حال مرا خلق خدا پوچھتی ہے

چشم انکار میں اقرار بھی ہو سکتا تھاچھیڑنے کو مجھے پھر میری انا پوچھتی ہے

تیز آندھی کو نہ فرصت ہے نہ یہ شوق فضولحال غنچوں کا محبت سے صبا پوچھتی ہے

کسی صحرا سے گزرتا ہے کوئی ناقہ سواراور مزاج اس کا ہوا سب سے جدا پوچھتی ہے

— اسعد بدایونی