6 اشعار

یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیں

Ye log khwab bahut Karbala ke dekhte hain

یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیں

«یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیںمگر غنیم کو گردن جھکا کے دیکھتے ہیں

سنا ہے برف رتیں روشنی سے ڈرتی ہیںسو اک چراغ کو ہم بھی جلا کے دیکھتے ہیں

انہیں کہو کہ کبھی جنگلوں کی سمت بھی آئیںجو بستیوں میں کرشمے خدا کے دیکھتے ہیں

جنوں میں کوئی اضافہ نہیں ہے مدت سےغبار جسم بھی اب کے اڑا کے دیکھتے ہیں

یہ دل ہے ٹھہری ہوئی جھیل کی طرح کب سےاب اس میں پھر کوئی پتھر گرا کے دیکھتے ہیں

پھر اک خیال کو زنجیر کر دیا ہم نےپھر ایک نام کو دل سے مٹا کے دیکھتے ہیں

— اسعد بدایونی