6 اشعار

سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا

Suraj ki tarah qarya-e-mahtab mein aaya

سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا

«سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیارات ایک عجب شخص مرے خواب میں آیا

کیا لہر تھی جو مجھ کو لگا آئی کنارےکس موج سے پھر حلقۂ گرداب میں آیا

یہ شہر تو صحراؤں کی سرحد پہ بسا تھاکیسے یہ خرابہ کف سیلاب میں آیا

اک یاد سے روشن ہوئے دیوار و در و بامخم ایک نئی طرح کا محراب میں آیا

پہلے تو دھنک رنگ میں ڈوبا افق جاںپھر منظر ہجراں بھی تب و تاب میں آیا

اک شخص کہ یکتا تھا دریدہ دہنی میںذکر اس کا مگر پیار سے احباب میں آیا

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں