5 اشعار

اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا

Udaas raat ka dukh jaanta koi bhi na tha

اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا

«اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھامری طرح اسے پہچانتا کوئی بھی نہ تھا

سب اپنے قد کو صنوبر سمجھ رہے تھے وہاںمرے وجود کو گردانتا کوئی بھی نہ تھا

وہ جس کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی تھی کلاس ایک شخص کو پہچانتا کوئی بھی نہ تھا

سب اپنی دھن میں مگن اپنی فکر میں گم تھےنصیحتوں کو مری مانتا کوئی بھی نہ تھا

میں اجنبی تھا وہاں سب کے واسطے اسعدؔترے نگر میں مجھے جانتا کوئی بھی نہ تھا

— اسعد بدایونی