آج
کلام: اسرار الحق مجاز
کار فرما پھر مرا ذوق غزل خوانی ہے آجپھر نفس کا ساز گرم شعلہ افشانی ہے آج
پھر نگاہ شوق کی گرمی ہے اور روئے نگارپھر عرق آلود اک کافر کی پیشانی ہے آج
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
کار فرما پھر مرا ذوق غزل خوانی ہے آجپھر نفس کا ساز گرم شعلہ افشانی ہے آج
پھر نگاہ شوق کی گرمی ہے اور روئے نگارپھر عرق آلود اک کافر کی پیشانی ہے آج
میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوارمحفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار
ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکارنغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں