20 اشعار

مزدوروں کا گیت

Mazdooron ka Geet

مزدوروں کا گیت

«مزدوروں کا گیت» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

محنت سے یہ مانا چور ہیں ہمآرام سے کوسوں دور ہیں ہم

پر لڑنے پر مجبور ہیں ہممزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

گو آفت و غم کے مارے ہیںہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں

اس جگ کے راج دلارے ہیںمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

بننے کی تمنا رکھتے ہیںمٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیں

سرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیںمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

ہر چند کہ ہیں ادبار میں ہمکہتے ہیں کھلے بازار میں ہم

ہیں سب سے بڑے سنسار میں ہممزدور میں ہم مزدور ہیں ہم

جس سمت بڑھا دیتے ہیں قدمجھک جاتے ہیں شاہوں کے پرچم

ساونت ہیں ہم بلونت ہیں ہممزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

گو جان پہ لاکھوں بار بنیکر گزرے مگر جو جی میں ٹھنی

ہم دل کے کھرے باتوں کے دھنیمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

ہم کیا ہیں کبھی دکھلا دیں گےہم نظم کہن کو ڈھا دیں گے

ہم ارض و سما کو ہلا دیں گےمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

ہم جسم میں طاقت رکھتے ہیںسینوں میں حرارت رکھتے ہیں

ہم عزم بغاوت رکھتے ہیںمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

جس روز بغاوت کر دیں گےدنیا میں قیامت کر دیں گے

خوابوں کو حقیقت کر دیں گےمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

ہم قبضہ کریں گے دفتر پرہم وار کریں گے قیصر پر

ہم ٹوٹ پڑیں گے لشکر پرمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں