6 اشعار

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر

Yun Hi Baithe Raho Bas Dard-e-Dil Se Be Khabar Ho Kar

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر

«یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کربنو کیوں چارہ گر تم کیا کرو گے چارہ گر ہو کر

دکھا دے ایک دن اے حسن رنگیں جلوہ گر ہو کروہ نظارہ جو ان آنکھوں میں رہ جائے نظر ہو کر

دل سوز آشنا کے جلوے تھے جو منتشر ہو کرفضائے دہر میں چمکا کئے برق و شرر ہو کر

وہی جلوے جو اک دن دامن دل سے گریزاں تھےنظر میں رہ گئے گل ہائے دامان نظر ہو کر

فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذ اللہیہ نالے نارسا ہو کر یہ آہیں بے اثر ہو کر

یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیںشفق کی سرخیاں بن کر تجلیٔ سحر ہو کر

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں