8 اشعار

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں

Ab khanuman kharab ki manzil yahan nahin

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں

«اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیںکہنے کو آشیاں ہے مگر آشیاں نہیں

عشق ستم نواز کی دنیا بدل گئیحسن وفا شناس بھی کچھ بدگماں نہیں

میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیںاک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں

تم سے بچھڑ کے مجھ کو سہارا تو مل گیایہ اور بات ہے کہ میں کچھ شادماں نہیں

اپنے حسین خواب کی تعبیر خود کرےاتنا تو معتبر یہ دل ناتواں نہیں

زلف دراز قصۂ غم میں الجھ نہ جائےاندیشہ ہائے عشق کہاں ہیں کہاں نہیں

ہر ہر قدم پہ کتنے ستارے بکھر گئےلیکن رہ حیات ابھی کہکشاں نہیں

سیلاب زندگی کے سہارے بڑھے چلوساحل پہ رہنے والوں کا نام و نشاں نہیں

— باقر مہدی