8 اشعار

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

Goonjta shehron mein tanhai ka sannata to hai

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

«گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہےبے کسی کا ہم نوا اب تک وہی سایا تو ہے

ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگرٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے

چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہےدور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے

بوڑھے سرکش زرگری میں رہزنوں کے ساتھ ہیںانقلاب نو کا وہ پندار اب ٹوٹا تو ہے

ان خطیبوں کا طلسم لن ترانی توڑ دےاس ہجوم بے نوایاں میں کوئی ایسا تو ہے

قصۂ آدم کی تلخی زندگی کے ساتھ ہےجنتیں لاکھوں بنا کر آدمی تنہا تو ہے

شور ہے ڈوبیں ہزاروں عظمتیں تاریخ کیکتنی خاموشی سے بہتا وقت کا دھارا تو ہے

مسکرا کر زیر لب شاید یہی کہتے ہیں وہلاکھ سودائی سہی باقرؔ مگر اپنا تو ہے

— باقر مہدی