13 اشعار

الوداع

Alvida

الوداع

«الوداع» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

الوداعکیسے ماہ و سال گزرے

اب نہ کچھ بھی یاد ہےصرف ہیں دھندلے نقوش

یا بصارت کی کمی ہےکچھ نظر آتا نہیں

بس کتابوں اور فلموں میں رہیاک بصیرت کی تلاش

کچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجوجانے کس منزل کی تھی وہ آرزو

بے سبب لوگوں سے یارانہ رہااور پھر تنہا رہا برسوں تلک

سب تھے قیدی اپنے اپنے جال کےتمناؤں کی دلدل میں پڑے

کس میں ہمت تھی کہ بدلے زندگانی کے پرانے خول کوہم سے سرکش کو دیا کرتے تھے نام

اور ہنس کر خوش ہوا کرتے سارے اجنبیکون سمجھائے کہ ہم محکوم ہیں مظلوم ہیں

بے بسی کیسے مقدر بن گئیبولے گا کون

خوف ایسا ہے کہ کوئی شخص کچھ کہتا نہیںجانے کس طوفان کے سب منتظر ہیں

بت بنےکیسے چلاؤں کہ اپنا ہم نوا کوئی نہیں

الوداع خود اپنے سائے کو مگرکہنا پڑا

— باقر مہدی