13 اشعار

میرا جنم دن

Mera janam din

میرا جنم دن

«میرا جنم دن» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ذہن پہ اک گھٹا سی چھائی ہےلفظوں کی انجانی بوندیں برس رہی ہیں

کوئی معنی شاید نکلیں؟زخمی طائر میرے قلم سے لپٹ گیا

اور اس کے پہلو میں اک ننھا سا تیر ہےتیر میں اک کاغذ بھی ہے

اب کے میرے جنم دن پرکس نے مجھ کو یاد کیا ہے؟

میں نے کاغذ کھول کے دیکھاکچھ بھی نہ تھا

صرف ٹوٹی ٹوٹی چند لکیریں تھیںایسے خط آتے رہتے ہیں

نام نہیں ہوتا جن پربات نہیں بنتی لیکن

بات بنے گی کیسے؟جب پہلو میں خار لگا ہو

آنکھوں میں نم آ بھی چکا ہوجنم جنم کے سودے میں تم

سب سے آگے نکل گئے ہوسارے ساتھی چھوٹ گئے

غم کے چھالے پھوٹ گئےجینے کی امید نہیں ہے

پھر بھی تم اب تک جیتے ہوعمر تمہاری موت سے آگے نکل گئی ہے

سناٹے میں جینا کتنا مشکل ہےخواہش کے صدمے بھی نہیں ہیں

— باقر مہدی