11 اشعار

بہت ہے ایک نظر

Bahut hai ek nazar

بہت ہے ایک نظر

«بہت ہے ایک نظر» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

قدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہےتری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے!

خزاں میں رہ کے بہاروں کی آرزو نہ کروںجو زخم دل بھی مہک کر کھلے تو کیا کم ہے!

ہزار چاک ہیں دامان زندگی کے مگرجو ایک چاک گریباں سلے تو کیا کم ہے!

تمام تیرہ منازل سے میں گزر جاؤںجو ایک شمع محبت جلے تو کیا کم ہے!

وہ گیت جو مرے ہونٹوں پہ آ نہیں سکتاوہ اشک غم کے سہارے ڈھلے تو کیا کم ہے!

رہ حیات میں دیوانگی کی منزل پرسنبھل سنبھل دل ناداں چلے تو کیا کم ہے!

یہ گومتی یہ اودھ کی حسین رقاصہمیں سوچتا ہوں اسے راز داں بنا ڈالوں

فضا پہ سرمئی آنچل اڑھا کے دور تلکاسی زمیں پہ نیا آسماں بنا ڈالوں

یہ میرے اشک محبت کے پاسدار بھی ہیںبہت ہے ایک نظر بھی جو غم کی محرم ہو

میں اس نظر سے نیا آستاں بنا ڈالوںقدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہے

تری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے!

— باقر مہدی