7 اشعار

اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے (ردیف .. ن)

Aur koi jo sune khoon ke aansu roye (radeef .. n)

اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے (ردیف .. ن)

«اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئے (ردیف .. ن)» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

اور کوئی جو سنے خون کے آنسو روئےاچھی لگتی ہیں مگر ہم کو تمہاری باتیں

ہم ملیں یا نہ ملیں پھر بھی کبھی خوابوں میںمسکراتی ہوئی آئیں گی ہماری باتیں

ہائے اب جن پہ مسرت کا گماں ہوتا ہےاشک بن جائیں گی اک روز یہ پیاری باتیں

یاد جب کوئی دلائے گا سر شام تمہیںجگمگا اٹھیں گی تاروں میں ہماری باتیں

ان کو مغرور بنایا ہے بڑی مشکل سےآئینہ بن کے رہیں کاش ہماری باتیں

ملتے ملتے یوں ہی بیگانے سے ہو جائیں گےدیکھتے دیکھتے کھو جائیں گی ساری باتیں

وہ بہت سوچیں تڑپ اٹھیں مگر اے باقرؔیاد آئیں تو نہ آئیں یہ تمہاری باتیں

— باقر مہدی