12 اشعار

سزا

Saza

سزا

«سزا» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دلتو نے پہلے بھی کئی بار قسم کھائی ہے

درد جب حد سے بڑھا ضبط کا یارا نہ رہاان کی ایک ایک ادا یاد مجھے آئی ہے

وہ تبسم میں نہاں طنز کے میٹھے نشتروہ تکلم میں تغافل کو چھپانے کی ادا

رک کے ہر لمحہ نئی طرح سے آغاز ستمجیسے کچھ کھو کے کسی چیز کو پانے کی ادا

میری خاموشی پہ بے باک نگاہی ان کیجذبۂ شوق کو کچھ اور بڑھانے کی ادا

وہ مسلسل مری باتوں پہ توجہ کی نظررخ پہ مچلی ہوئی زلفوں کو ہٹانے کی ادا

میرے اشعار کو سنتے ہی وہ آنکھوں میں غرورمجھ کو ہر طرح سے دیوانہ بنانے کی ادا

بے خودی دیکھ کے میری وہی بیگانہ رویپاس آ آ کے بہت دور وہ جانے کی ادا

رخصتی لمحوں میں ہونٹوں پہ دعاؤں کا گماںدر پہ رک کر مری خاطر سے وہ جانے کی ادا

آج رہ رہ کے تڑپتا ہوں نئی بات ہے کیادل نے کیوں ترک محبت کی قسم کھائی ہے

وہ ستم لاکھ کریں ان کا تو شیوہ ہے یہیعشق کی ترک محبت میں بھی رسوائی ہے

اب تو جلتے ہوئے جینا ہی پڑے گا اے دل''تو نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے''

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں