7 اشعار

بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!

Bahut zi fehm hain duniya ko lekin kam samajhte hain!

بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!

«بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

بہت ذی فہم ہیں دنیا کو لیکن کم سمجھتے ہیں!عجب قصہ ہے سب کچھ جان کر مبہم سمجھتے ہیں

ہوائیں تیز تر ہیں آج بادل آنے والے ہیںتڑپتے سرد جھونکوں کو بھی سب موسم سمجھتے ہیں

زمیں کروٹ بدلتی ہے نئے رنگوں میں ڈھلتی ہےنجومی کس طرح دنیا کے پیچ و خم سمجھتے ہیں

فلک غائب ہوا یہ چاند تارے خاکداں سے ہیںانہیں بھی لوگ اک دنیا نیا عالم سمجھتے ہیں

بہت دانائے راز آئے ہزاروں نکتہ داں آئےسمجھنے کے لیے وہ زندگی کو غم سمجھتے ہیں

ہوئی تخلیق کیسے آج تک کوئی نہیں سمجھانکالے کب گئے یہ حضرت آدم سمجھتے ہیں

نہ کوئی اشک شوئی ہے نہ چہرہ زرد ہے باقرؔہماری خامشی کو پھر بھی وہ ماتم سمجھتے ہیں

— باقر مہدی