8 اشعار

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

Woh rind kya ke jo peete hain be-khudi ke liye

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

«وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیےسرور چاہیئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے

یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہوکبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے

اودھ کی شام رفیقوں کو مہ جبینوں کوہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے

مگر یہ کیا کہ بجز درد کچھ ہمیں نہ ملاعجیب شہر ہے یہ ایک اجنبی کے لیے

ہزار چاہیں نہ چھوٹے گی ہم سے یہ دنیایہیں رہیں گے محبت کی بے کسی کے لیے

کوئی پناہ نہیں کوئی جائے امن نہیںحیات جہد مسلسل ہے آدمی کے لیے

یہ کہہ رہا ہے کوئی اپنے جاں نثاروں سےکچھ اور چاہیئے اب رسم عاشقی کے لیے

کہاں کہاں نہ پکارا کہاں کہاں نہ گئےبس اک تبسم پنہاں کی روشنی کے لیے

— باقر مہدی