5 اشعار

برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں

Barson padh kar sarkash rah kar zakhmi ho kar samjha main

برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں

«برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

برسوں پڑھ کر سرکش رہ کر زخمی ہو کر سمجھا میںہر کوچہ ہے کوچۂ قاتل زخمی ہو کر سنبھلا میں

طوفانی جذبوں سے بچ کر دور تلک کیسے جاتا؟ایک جزیرہ بن کر آخر لہروں لہروں ٹھہرا میں

کتنے آدرشوں کے شیشے رگ رگ میں آزار بنےلڑتے لڑتے تھک کر دیکھا سایہ تھا اور تنہا میں

آئینہ کیا کس کو دکھاتا گلی گلی حیرت بکتی تھینقاروں کا شور تھا ہر سو سچے سب اور جھوٹا میں

باقرؔ تیز شعاعوں سے سب مومی چہرے پگھل گئےصبح تلک پتھریلے غم تھے اور تھا ٹوٹا پھوٹا میں

— باقر مہدی