5 اشعار

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن

Bujhi bujhi hai sada-e-naghma kahin kahin hain rubab roshan

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن

«بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشنٹھہر ٹھہر کے گرے ہیں آنسو بکھر بکھر کے ہیں خواب روشن

سوال مبہوت سے کھڑے ہیں کہ جیسے سینوں میں دل نہیں ہیںافق کے اس پار جا کے دیکھو شکستہ مضطر جواب روشن

وہ بیکسی ہے کہ العطش کی صدائیں خاموش ہو گئی ہیںکہاں ہے کوئی حسین یارو کہ ہر طرف ہے سراب روشن

عجیب غم ناک ہیں ہوائیں لہو لہو ہے فضائے گنگاتڑپتی موجیں شکستہ کشتی بجھے دیے اور حباب روشن

غلام گردش میں ہے اندھیرا ہے دم بخود سرخ سا سویراکفن پہن کر نکل چکے ہیں غریب باقرؔ نواب روشن

— باقر مہدی