7 اشعار

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!

Deewangi ki raah mein gum sum hua na tha!

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!

«دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا!دنیا میں اپنا کوئی کہیں آشنا نہ تھا!

دھڑکن کا درد جسم کو تڑپا کے رہ گیارگ رگ میں ایک شور مسیحا بپا نہ تھا!

اک کشمکش کے بعد تعلق نہیں رہابیگانہ ہو کے ہم سے وہ لیکن خفا نہ تھا!

دیوار و در پہ پردے لٹکتے تھے ہر طرفافلاس کونے کونے میں لیکن چھپا نہ تھا!

زنجیریں لاکھ ٹوٹیں مگر خوف حکمراںمجبوریوں کے جال سے کوئی رہا نہ تھا!

اک اپنی چیخ سے لرز اٹھے تھے بام و درآئی نہ بازگشت کوئی ہم نوا نہ تھا!

آتے رہے نہ جانے کہاں سے خطوں پہ خطبے نور چشم نم نے کسی کو پڑھا نہ تھا!

— باقر مہدی