6 اشعار

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

Chaha bahut ki ishq ki phir ibtida na ho

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

«چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہورسوائیوں کی اپنی کہیں انتہا نہ ہو

جوش وفا کا نام جنوں رکھ دیا گیااے درد آج ضبط فغاں سے سوا نہ ہو

یہ غم نہیں کہ تیرا کرم ہم پہ کیوں نہیںیہ تو ستم ہے تیرا کہیں سامنا نہ ہو

کہتے ہیں ایک شخص کی خاطر جیے تو کیااچھا یوں ہی سہی تو کوئی آسرا نہ ہو

یہ عشق حد غم سے گزر کر بھی راز ہےاس کشمکش میں ہم سا کوئی مبتلا نہ ہو

اس شہر میں ہے کون ہمارا ترے سوایہ کیا کہ تو بھی اپنا کبھی ہمنوا نہ ہو

— باقر مہدی