7 اشعار

درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے

Dard-e-dil aaj bhi hai josh-e-wafa aaj bhi hai

درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے

«درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

درد دل آج بھی ہے جوش وفا آج بھی ہےزخم کھانے کا محبت میں مزا آج بھی ہے

گرمئ عشق نگاہوں میں نہیں ہے نہ سہیمسکراتی ہوئی آنکھوں میں حیا آج بھی ہے

حسن پابند قفس عشق اسیر آلامزندگی جرم محبت کی سزا آج بھی ہے

حسرتیں زیست کا سرمایہ بنی جاتی ہیںسینۂ عشق پہ وہ مشق جفا آج بھی ہے

دامن صبر کے ہر تار سے اٹھتا ہے دھواںاور ہر زخم پہ ہنگامہ اٹھا آج بھی ہے

اپنے آلام و مصائب کا وہی درماں ہےدرد کا حد سے گزرنا ہی دوا آج بھی ہے

میرؔ و غالبؔ کے زمانے سے نئے دور تلکشاعر ہند گرفتار بلا آج بھی ہے

— باقر مہدی