15 اشعار

اس نے کہا!

Us ne kaha!

اس نے کہا!

«اس نے کہا!» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

سائے بڑھنے لگے اور جیسے کہیں رات ہوئیدیر تک بیٹھے رہے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے

پھر دل زار نے چپکے سے انہیں چوم لیاہونٹ تھرائے کہ کس طرح کی یہ بات ہوئی

پیاری آنکھوں نے کہا ہم تو بہت ہیں مخمورکوئی ناشاد رہے ہم تو ابھی ہیں مسرور

ذہن شاعر بھی تخیل میں ذرا جھوم لیابات اتنی ہی ہوئی تھی کہ وہ آنکھیں بولیں

''بارہا تم نے ہماری ہی قسم کھائی ہےسچ کہو جرأت دل کیسے کہاں پائی ہے

ہم پہ صدقے کیا کرتے ہو دل و جاں لیکنراز ہیں کون سے پنہاں یہ سمجھتے بھی ہو!

کس طرح تم سے کریں عہد وفا کی باتیںاجنبی ہوتا ہے مہماں یہ سمجھتے بھی ہو!

ڈوبنے لگتے ہو جب یاس کی گہرائی میںبیکسی ہم سے تمہاری نہیں دیکھی جاتی!

جام پہ جام چڑھاتے ہو کہ غم کچھ بھی نہیںبے خودی ہم سے تمہاری نہیں دیکھی جاتی!

کیوں کہا کرتے ہو دنیا ہے یہ ہم کچھ بھی نہیںایسے لمحوں میں بھلا کس نے سنبھالا ہے کہو

غم کدے سے تمہیں کس طرح نکالا ہے کہو!اپنے سینے میں بھی جذبات کے طوفاں ہیں مگر

ہم تمہاری ہی طرح بے سر و ساماں ہیں مگرحسن کے آج ہر اک گام پہ سودائی ہیں

اپنی نظریں بھی تو اب باعث رسوائی ہیں''ذہن شاعر نے یہ باتیں بھی سنیں کچھ نہ کہا

ہاتھ خود بڑھ کے نئی طرح سے ہاتھوں سے ملےآنکھوں آنکھوں میں محبت کی نئی بات ہوئی

سائے بڑھنے لگے اور جیسے کہیں رات ہوئی

— باقر مہدی