7 اشعار

فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے (ردیف .. ا)

Faraib kha ke bhi sharminda sukoon na hue (radeef .. a)

فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے (ردیف .. ا)

«فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئے (ردیف .. ا)» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

فریب کھا کے بھی شرمندۂ سکوں نہ ہوئےنہ کم ہوا کسی منزل پہ ولولہ دل کا

یہ سوچ کر تری محفل سے ہم چلے آئےکہ ایک بار تو بڑھ جائے حوصلہ دل کا

پلٹ کے اب نہ کبھی لکھنؤ سے گزرے گانکل گیا ہے بہت دور قافلہ دل کا

حریف عشق کوئی ہو حریف غم تو نہیںکسی سے ہو نہ سکے گا مقابلہ دل کا

کوئی کسی کا نہیں ہم زباں زمانے میںکریں تو کس سے کریں جا کے اب گلہ دل کا

شکست کھانے کا یارا نہیں پہ کیا کیجےاک اجنبی سے پڑا ہے مقابلہ دل کا

تمہاری نذر بھی لائے جو ہم تو کیا لائےذرا سنبھال کے رکھنا یہ آبلہ دل کا

— باقر مہدی