10 اشعار

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!

Ajeeb dil mein mere aaj iztirab sa hai!

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!

«عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!کھلی ہے آنکھ سمندر بھی ایک خواب سا ہے!

ٹھہر ٹھہر کے بجاتا ہے کوئی سازینہمیں کیا کروں مرے سینے میں اک رباب سا ہے!

بجھے گی پیاس مری زہر آگہی سے کبھیمرے دیار میں اس کا مزا شراب سا ہے!

میں کیوں کسی سے سر راہ رہبری مانگوں؟نئی ہے منزل غم اک یہی جواب سا ہے!

چمکتی ریت سے رہ رہ کے اٹھ رہی نواکوئی مزار تھا پہلے کہ اب سراب سا ہے!

ہدف بنا کے نہ رسوا کرو زمانے میںغریب شہر ہوں رتبہ مرا جناب سا ہے!

میں چھوڑ آیا ہوں مدت ہوئی غریبی کویہ میرا سایہ بڑا خانماں خراب سا ہے!

نہ جانے کیسے میں سیل رواں سے بچ نکلا؟یہ زندگی کا تماشا تو اک حباب سا ہے!

میں کیسے خود کو سمجھ پاؤں بے کسی یہ ہے؟کہ آئینہ نہیں عکسوں کا اک نقاب سا ہے!

نظر ملا کے میں اس سے گزر گیا باقرؔنہ جانے مجھ سے خفا یہ کہ لا جواب سا ہے!

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں