8 اشعار

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!

Saada kaghaz pe koi naam kabhi likh lena!

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!

«سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا!

یوں تو ہم اہل جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیںگمرہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا!

مے گساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہےتشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا!

کتنی روشن ہیں سمندر کی چمکتی راتیںڈوبتی لہروں کا انجام کبھی لکھ لینا!

بھوت خوابوں میں فرشتے سے نظر آتے ہیںذہن میں اپنے یہ اوہام کبھی لکھ لینا!

توڑ کے کتنی چٹانوں کو نکل آئے ہیںسارے جذبے ہیں مگر خام کبھی لکھ لینا!

بک رہا ہے سر بازار ہر اک دانشورہم سے آوارہ کے کچھ دام کبھی لکھ لینا!

جرم کوئی نہیں باقرؔ کو رہا مت کرناکچھ نہ کچھ ڈھونڈ کے الزام کبھی لکھ لینا!

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں